سودا[1]
معنی
١ - بیشتر کھانے پینے اور برتنے کا سامان یا جنس جو بازار سے خریدی جائے، سامانِ تجارت۔ "اچھے زمانے، سستے سمے، پیسے میں چار سو روپے آتے تھے۔" ( ١٩٦٧ء، اُجڑا دیار، ٢١ ) ٢ - خریداری، خرید و فروخت کا معاملہ، لین دین۔ بہت سستے چھُوٹے ہم جان دے کر مل گیا ساغر یہ وہ سودا ہے جس میں کیا کہیں کیا کیا جھمیلا تھا ( ١٩٢٧ء، شادعظیم آبادی، میخانۂ الہام، ٣٧ )
اشتقاق
فارسی سے اردو میں داخل ہوا اور بطور اسم استعمال ہوتا ہے اردو میں سب سے پہلے ١٦٦٥ء کو "پھول بن" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - بیشتر کھانے پینے اور برتنے کا سامان یا جنس جو بازار سے خریدی جائے، سامانِ تجارت۔ "اچھے زمانے، سستے سمے، پیسے میں چار سو روپے آتے تھے۔" ( ١٩٦٧ء، اُجڑا دیار، ٢١ )